Videos
Pictures of Yasin
Songs and Music
Back to Home Page


 

Articles Updated


bullet Identity Crisis in Gilgit Baltistan eats its Tourism | Quwat Khan Sunny, DTHM, USA
bullet following George Hayward through Oxus: Yasin Valley | Umar Mukhtar, M. A Cambridge, United States.
bullet Esoteric World Vision of Nasir Khusrow |Alice Huns berger
bullet Pakistan's Election 2008 and Democratic Corpse |Quwat Khan Sunny, DTHM, USA
bullet More to come |by Writers


Yasin Valley: Gilgit Baltistan, Northern Areas of Pakistan
 

شمالی علاقہ جات کی سیاحت سیاست کے گرداب میں۔

Writtne by Quwat Khan Sunny

سیا حت دنیا کی دوسری بڑی صنعت ہے اور ورلڈ ٹوریسم ارگنائزیشن کے مطا بق مستقبل میں یہ سب سے بڑی صنعت بن جا ئی گی۔ ورلڈ ٹوریسم رینکینگ کے مطابق  دنیا میں سب سے زیادہ سیاح فرانس جا تے ہیں اور اس رینکنگ میں پاکستان کا نمبر چھپنواں ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سیا ح افغانستان سے اتے  ہیں۔

سیاحت ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں سب کو فائدہ ہوتا ہے اور خوب ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کی مارکیٹ میں امریکی  سیاحت اگر  ایک فیصد بڑھ جا ئے تو اس سے  ستر لاکھ ساٹھ ہزار سیا حوں کا اظافہ ہوتا ہے۔ جیبوں سے بارہ ارب تیس کروڈ ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ایک لاکھ اکیاون ہزار نئی اسا میا ں نکلتی ہیں۔ پے رول میں تین ارب تیس کروڑ ڈالر کا اظافہ ہوتا ہے۔ وفا قی، سٹیٹ اور علاقا ئی ٹیکس امدن میں تین ارب دس کروڈ ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔  سیاسی، معاشرتی، سفارتی اور دیگر فوائد ا س کے علاہ ہیں۔ علمِ سیا حت میں ا س ا ثر کو"ملٹپلا ئر ایفکٹ" کہا جاتا ہے-

کسی بھی ملک کی سیاحت کا تعلق بیک وقت اس کی گلیوں سے بھی ہوتا ہے اور پوری دنیا سے بھی۔ ملک کی خارجہ پا لیسی، علاقا ئی سہولیات، ملک کا امیج، بین الاقوامی تعلاقات، سیاسی صورتِ حا ل، سیاحتی تشخص، ثقافاتی اور تمدنی برتاوَ ایسے اجزاء ہیں جو سیاحت کی رگوں میں خون کی مانند ہیں۔ ان اجزاء کا مثبت توازن سیا حت کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔

شمالی علاقہ جا ت پاکستان کے وہ حسین وادیا ں ہیں جن کا قدرتی حسن و جمال، شاندار تمدنی پرتا وَ، منفرد ثقافت، بلند و بالا پہا ڈی سلسلےاور بہترین اب و ہوا سیا حوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ نا موافق سیاسی صورت حال میں بھی یہ خطہ ملک کو اتنا ا مد ن دےسکتا ہے جتنا  اس خطے کے حصے میں جون کا بجٹ اتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ خطہ خا لص سیاحتی مقام ہے جہا ن سیاح صرف     سیا حت کی غرض سے اتے ہیں۔ جو اپنے سا تھ نہ صر ف معا شی فوائد لے کر اتے ہیں بلکہ باہمی شعورو اگا ہی میں  بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علا وہ غیرخا لص سیا حتی مقامات میں ا نے والے افراد وسائل سے زیادہ  مسائل لے کر اتے ہیں- سیا حت کے عالمی تعریف  کے مطابق یورپ سے ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے ملک میں انے والا مسافر اور ہمارے ہمسایہ ملک سے  بغیر ویزے کے انے والا شخص دونوں ہی سیاح کہلاتے ہیں۔  یوں ملک میں سیاحتی آمدگی کے حساب میں تواراولپنڈی، پشاور، سوات اوردیگر علاقے تو شمالی علاقہ سے اگے ہیں مگر کوالٹی کے حوالے سے شمالے علاقہ  جا ت سیاحتی مقام کے طور پر پھربھی سر فہرست ہیں۔ کیونکہ یہ خطہ خا لص سیا حتی مقاما ت میں سے ایک ہے۔ اس بات کو اگر سسٹین ا یبل ٹوریسم کے پیرائے بھی دیکھیں تو سوات کی مثال سے بہت کچھ سیکھا جاسکتاہے۔

پاکستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورت حال  اور نازک سیاسی  بحران خطے کی اکانومی اور سیاحت سے منسلک افراد کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ جن اجزا کا حوالہ پہلے دیا گیاکہ ان کی موجودگی سیاحت کی بقا کا ضامن ہے وہ تمام اجزا ملک میں یا تونا پید ہیں یا غیرمتوازن حالات میں ہیں۔  

سیاحت، شمالی علاقہ جات اور ملکی خارجہ پالیسی پر بات کی جائے۔ تو اس خطے کا بلواسطہ یا بلا واسطہ ملکی خارجہ پالیسی سے کو ئی تعلق نہیں ہوتا۔ جس کی وجوہات بہت ساری ہیں۔ جن میں شمالی علاقہ جات کی طرف سے ملکی ایوانوں میں نمایند وں کی غیر موجودگی، خطے کی سیاسی اور ائینی گتھیوں کا ا لجھن، نمائند وں کی جِی حضوری جیسے حالات شامل ہیں۔

ہمارے نمائندوں کا دعواع ہے کہ شمالی علاقہ جات میں بہترین سیاحتی سہولیات ہیں۔ مگرنیویارک' لنڈن اور برلن کے طیارے سے گلگت میں اترنے والا مسا فر ایک لمحے کے لیے یہ سو چتا ہو گا کہ یہ ٹیکسی اسٹینڈ ہے یا ہوائی اڈہ۔ گلگت بازار اور راولپنڈی کے راجہ بازار میں کوئی فرق تو رہا نہیں۔ ہاں یہ بات تو ہے کہ شمالی علاقہ جات دنیا کی بہترین سیاحتی ریسورسیس میں سے ہیں۔ اگر ہم ملکی امیج کی با ت کریں تو مختصراْ یہ کہہ سکتے ہیں کہ " بہت دھندلا ہے" سیا حتی تشّخص بھی سیاسی مسائل میں کہیں کھو چکاہے۔ ہماری سب سے بڑی سیا حتی پہچان کے ٹو کو بھی کسی کی نظر لگ گئ جو اج کل اربابِ سخن میں پس منظر سے ہٹ کر زیرِ بحث ہے۔

 سیاحتی حیات کے اجزا میں سے ایک جز ہمارے زندہ دل عوام کا بہترین ثقافتی اور تمّدنی برتا و تھا وہ بھی ا ب غیروں کے رنگ میں ڈھل کے سرد مہری کا شکار ہو چکا ہے۔  

 

ہم سیا حت کو اپنے بچوں کا مستقبل بنا سکتےہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کا ایک بہترین پیشہ بن سکتا ہے۔ ہمارے خطے میں شعورو اگا ہی اسکتی ہے۔ ہم دنیا سے جُڑ سکتے ہیں۔ ہمارے سرمایہ دار سرمایہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں خود کو ائیڈینٹٹی کرائسس سے نکالنا ہے، اپنی پہچان کا دفا ع کرنا ہے، جزبات کی بھنور سے نکلنا ہے۔ امن کا پر چار کرنا ہے۔  گھر میں بھا ئی بھائی کے خون کو ترسے تو مہمان کہاں اتا ہے۔ اخر مہمان کی بھی تو انکھیں ہیں۔ ہم کب تک کہیں گے کہ سب کچھ ٹیھک ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بندوق نظر اتا ہے، کیا یہ ٹیھک ہے؟ د ر و دیوار
سیا سی اشتہارات سے مزَین ہیں، کیا یہ ٹِھیک ہے؟ مسلہَ کشمیر ہو، یا فلسطین، عراق کی جنگ ہو یا امریکہ اور ایران کی چپقلشیں، دنیا کے ہر بڑے مسلے کے سا تھ ہما رے بھا ئیوں کے جزبات جڑیں ہیں، جب کہ ہمارا مسلہ کسی کو نظر ہی نہیں اتا ہے۔ ہما رے حق کی کسی نے اج تک با ت ہی نہیں کی۔ پھر ہمارے یہ جزبات بے لگام کیوں ہیں، کبھی یہ جزبات ہمارے اپنے ہوتے تھے لیکن اج کل یہ بھی غیروں کے  میں ابھارے جاتے ہیں۔

سیا حت ایک بہت بڑی صنعت ہوتی ہے اور وہ ممالک جن کی سیا حتی صنعت مضبوط ہے ان کی معشت مضبوط ہے۔ امریکہ کی سیا حتی صنعت تین ٹرییلین ڈالر کی ہے۔ اس  صنعت کا ایک ڈالر اگر وقت کے ایک لمحے کے برابر ہو تو یہ سینتا لیس ہزار سال بنتے ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ ہماری سیاحت ، سیاست کے گرداب میں ہے۔ ا س کو اس گرداب سے نکالنا ہم سب کا ژا تی اور اجتمائی ذمہ داری ہے۔

 ۔

Please share it with:

 

 
 
Yasin Valley All Rights Reserved 2008-2009 © www.yasinvalley.com Administration Contact